الیکشن بیزاری: یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے

VOTE

1988 اور 1990 میں نواز شریف کی زیر قیادت اسلامی جمہوری اتحاد المعروف آئی جے آئی کے نعرے اور ترانے ملک بھی میں آڈیو کیسٹس میں دو گانوں، قوالیوں حتی کے نعتوں کے درمیانی وقفے میں دستیاب تھے۔ میری عمر اس وقت بمشکل کوئی چھ سات سال رہی ہو گی مگر اس وقت کا ایک نعرہ اب بھی ذہن میں گونج رہا ہے۔ نعرے لگن جائی جائی، جت کے رہسی آئی جے آئی۔ یہ پنجاب بشمول پوٹھوہار کا مقبول ترین نعرہ رہا۔

مذہبی قوتوں نے ایک انتہائی بے ہودہ نعرہ اسی عرصے میں اچھالا جس کو یہاں دہرانا مناسب نہیں البتہ اتنا بتا دوں کے اس میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ذاتی کردار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یعنی کے سیاست میں گالی کا کلچر نہ تو تحریک انصاف نے متعارف کروایا اور نہ خادم رضوی نے۔ البتہ انہوں نے اس کلچر کو موجودہ حالات کے مطابق ڈھالا ضرور ہے۔

تب سے لیکر آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہر بار جوش و خروش دیدنی ہوتا تھا۔ پاکستان میں تو الکیشن ہو رہے ہوتے تھے ہم آزاد کشمیر والے بھی بارات کے ساتھ ناچنے پہنچ جاتے۔ الیکشن سے کم از کم ایک سال قبل سیاسی ماحول میں گرمی آتی۔ چھ ماہ قبل یہ ماحول عروج تک پہنچ جاتا۔ گلی محلے میں جلسے، جلوس، کارنر میٹنگز، گاڑیوں پر اعلانات، سیاسی ترانے، جا بجا الیکشن کیمپس پر کارکنوں کے بھنگڑے، رنگ برنگے جھنڈوں کی بہاریں اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی کارکنوں کا اپنے ہی ہم جماعتوں یا پھر مخالف سیاسی جماعتوں سے ہلکا پھلکا تصادم یہ سب کچھ پاکستان میں الیکشن کا ایک لازمی حصہ تصور ہوتا تھا۔

الیکشن جو محض 23 دن باقی ہیں۔ سوائے سوشل میڈیا کے کہیں یہ محسوس نہیں ہو رہا کے الیکشن ہونے والے ہیں۔ ماحول دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ سبھی جماعتوں نے تسلیم کر لیاہے کہ کچھ بھی کر لیں الیکشن کے نتائج نادیدہ قوتوں کی مرضی کے مطابق ہی آئیں گے۔ سیاسی جماعتوں کی اس قدر الیکشن بیزاری سیاسی شعور کی زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے۔ شائد سب نے طے کر لیا ہے پانچ سال تبدیلی کے دعویدار عمران خان کو موقع دے دینا چاہیے۔ اب پتا نہیں یہ بیزاری ہے یا بے بسی۔

کبھی کبھی ڈر لگنے لگتا ہے کہ سیاسی ماحول میں یہ سکوت اور خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہ ہو۔ اللہ کرے الیکشن کا دن سکون سے گزرے پھر اگلے پانچ سال عمران خان جانے اور نیا پاکستان جانے۔ ہم بھی دیکھ لیں گے کے نئے پاکستان میں ہم جیسے پرانے پٹواریوں کی گنجائش موجود ہے یا ہمیں کسی دوسرے ملک کا رخت سفر باندھنا ہے۔

(جلال الدین مغل)